سعودی شہری اور صحافی محمد سعود جنھیں شوشل میڈیا پر اسرائیل اور اسرائیلی صدر کی پرزور حمایت، اخوان، ترکی، قطر اور حماس کی شدید مخالفت کے لئے جانا جاتا ہے سوموار کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اسرائیلی وزارت خارجہ کی دعوت پر چھ عراقی، اردنی اور سعودی صحافیوں کے ساتھ پہلی بار اسرائیل پہونچے۔ اسرائیل پہونچنے کی کچھ ہی گھنٹے بعد وہ مسجد اقصی جاپہنچے جہاں فلسطینی لڑکوں نے ان پر کئی بار تھوکا، جوتے، لکڑیاں اور کرسیاں پھینکیں اور یہودیوں کے عبادتگاہ جانے کے لئے کہا۔
اسرائیلی حکومت اور عوام نے اس سلوک کی مذمت کی ہے۔
اردن اور مصر کے علاوہ عرب ممالک نے اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا ہے، مگر پچھلے ہفتے بحرین اور اسرائیل کے وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی، دبئی نے اسرائیلی کمپنیوں اور کھلاڑیوں کو مدعو کیا، پچھلے ماہ نتنیاہو کا دورہ عمان ہوا اور عرب امارات، قطر اور سعودی عرب سے اسرائیل کے تعلقات نارمل ہوتے جارہے ہیں۔
کچھ مہینے پہلے ہوئے ایک سروے میں 80 فیصد فلسطینیوں نےکہا تھا کہ عرب ممالک انھیں تنہا چھوڑتے جارہے ہیں۔

کل اسرائیلی بلڈوزرس نے کئی اونچی عمارتوں کو توڑ کر تقریبا سو فلسطینیوں کو ہمیشہ کے لئے خیموں میں رہنے پر مجبور کردیا ہے۔

ذیل میں اسرائیل اور نتنیاہو کی حمایت میں محمد سعود کی ٹویٹس اور ان کے ساتھ ہوئے سلوک کے ویڈیوز پوسٹ کی جارہی ہیں۔کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

محمد سعود کا ویڈیو

نتنیاہو امن کا بادشاہ ہے

اسرائیل کے ساتھ خدا ہے، اسرائیل کو کوئی شکست نہیں دے سکتا

https://twitter.com/mohsaud08/status/1151909121056264193?s=19

مسجد اقصی کے اندر

مسجد اقصی میں اسرائیل کے حامی سعودی صحافی محمد سعود کے استقبال کا منظر۔

Posted by NewsPlanet.org on Monday, July 22, 2019

اسرائیل سے محبت رکھنے والے سعودی صحافی محمد سعود کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ فلسطینی بچوں نے کئی بار منھ پر تھوکا۔

Posted by NewsPlanet.org on Monday, July 22, 2019

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here