مجھے ایک ہفتے ہی ہوئے تھے آفس میں، وہ اپنے کئی پرانے ساتھیوں کو زندہ لاش کہہ کر چڑھاتا تھا۔
میں نے بارہا سوچا کہ کتنا عجیب اور بھدا مذاق ہے کسی زندہ شخص کو زندہ لاش کہنا۔
میں اسے ٹوکنے پر غور کررہا تھا مگر مجھے انتظار تھا اس وقت کا جب میں تھوڑا بے تکلف ہوجاتا۔
کسی سے بے تکلف ہونے کے لئے اس کے پاس وقت کہاں تھا، شوشل میڈیا پر بلڈ ڈونیشن کے اس کے کئی گروپ تھے، وہ دن بھر موبائل پر مریضوں سے خیریت دریافت کررہا ہوتا اور ان کو کب کب خون کی ضرورت پڑے گی اس کا ٹیبل بنا رہا ہوتا تھا، اس کے سامنے دیوار پر تاریخوں کے ساتھ بے شمار منصوبے اور یادداشتیں لگی ہوتی تھیں۔ گھنگھرالے، لمبے اور بے حد کالے بالوں اور چھوٹی چھوٹی داڑھی میں وہ کسی فلمی ہیرو جیسا لگتا تھا۔ خود کا بہت کم خیال رکھ پانے والے ساحل کے بارے میں عام طور سے ساتھی کہتے پھرتے تھے کہ وہ اپنے چہرے اور ظاہری رکھ رکھاؤ پر کافی توجہ دیتا ہوگا۔ پھر ایک دن اچانک موبائل پر بہت زیادہ مشغول رہنے کی وجہ اسے اسکی ٹیم مینیجر سے کچھ کہا سنی ہوگئی اور اس نے اچانک نوکری چھوڑ دی اور لاپتہ ہوگیا۔
کچھ عرصے بعد ایک دن اچانک میرے ایک ساتھی کے کسی رشتہ دار کو خون کی ضرورت پڑی، ڈاکٹر نے ایک گھنٹے کے اندر ایک یونٹ خون کا نظم کرنے کے لئے کہا۔ جب مجھ تک بات پہونچی تو سوچا کیوں نہ ساحل سے بات کی جائے۔ شوشل میڈیا پر خون کے لئے پوسٹ کی گئی درخواستوں میں اس کا نمبر مل گیا، فون کیا تو ایک گھنٹے بعد پتہ چلا کہ مریض کو خون مل گیا ہے۔
کچھ دن بعد مریض کے رشتہ داروں نے مجھے گھر پر بلایا اور میری بہت عزت افزائی کی حالانکہ میں نے صرف رابطہ کرایا تھا، اور پریکٹیکل کیا کچھ نہیں تھا۔ چاچی نے بتایا کہ ساحل خود خون دے کر گیا ہے کیونکہ کافی رات ہوجانے اور بہت کم وقت ہونے کی وجہ سے کوئی ڈونر ملا نہیں تھا۔ میں سکتے میں تھا اور اس دن نے اس کے لئے میرے دل میں عزت کافی بڑھ گئی ۔
دو دن بعد میں نے اس سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی جواب میں اس نے کہا کہ مشغولیت کی وجہ سے میں باقاعدہ وقت تو نہیں دے پاؤں گا لیکن اگر چاہو تو میری آفس سے گھر لوٹتے وقت میرے ساتھ گاڑی میں آجاؤ۔ میں نے غنیمت جانا اور ساحل کی نئی آفس کے نیچے انتظار کرنے لگا۔ چھٹی ہوئی وہ فون پر بات کرتے ہوئے نیچے آیا اور بنا مجھے نوٹس کئے ہوئے سڑک کی طرف چل دیا، میں بھی پیچھے پیچھے ہولیا۔
دوران سفر اس نے میری ملاقات کی وجہ جاننا چاہی۔ میں نے کہا کہ اس دن آپ خود خون دے کر آئے تو سوچا کہ آپ کا شکریہ ادا کروں، اس نے انتہائی بے توجہی سے کہا کہ شکریہ کی ضرورت نہیں مجھے جو خوشی ملتی ہے وہی کافی ہے میں سبھی کی طرح زندہ لاش بن کر نہیں جینا چاہتا، خالق کائنات نے مجھے صحت مند اور صاحب عقل بنایا ہے تاکہ میں لوگوں کے کام آؤں۔ میں نے دل ہی دل میں اس سے اپنا موازنہ کیا اور خاموش ہورہا۔ راستے سے ہی اس نے دس منٹ پہلے ایک جگہ کافی کا آرڈر دے دیا تھا، پہونچ کر خاموشی سے ہم نے کافی پی اور فورا اس نے اجازت چاہی۔ میرے پاس اس سے بات کرنے کے لئے کچھ تھا نہیں اس لئے مصافحہ کیا اور واپس لوٹ گیا۔
بات آئی گئی ہوگئی، اسی ہفتے آفس میں نئی ٹیم آگئی اور ہماری ٹریننگ شروع ہوگئی، ایک ماہ بعد جب ہم دوبارہ آفس پہونچے تو اس کا میز اور دیوار پر بھری پڑی یادداشتیں دیکھ کر یاد آیا کہ ہماری ملاقات کو کافی دن گذر گئے ہیں اور پچھلی ملاقات بالکل بے نتیجہ رہی تھی۔
میں نے اسے دوبارہ رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی اس نے کہا کہ پونہ میں بلد ڈونیشن کیمپ کے لئے چلنا چاہو تو دو گھنٹے میں تیار ہو جاؤ ۔
بادل نخواستہ میں نے آفس سے چھٹی لے اور ساتھ چلا گیا، پونہ یونیورسٹی میں اسے بہت سے لوگ جانتے تھے، بہت سارے عمردراز رضاکار اسے ‘سر’ کہہ کر بلا رہے تھے، دوسرے رضاکاروں سے اس کی دوسری کئی رضاکارانہ سرگرمیوں کے بارے میں بھی پتہ چلا، فارغ ہوکر ہم ممبئی کے لئے نکلے سفر میں کسی اخبار کے ایک پروجیکٹ کے لئے ایک ساتھی سے اس کی بات چیت جاری رہی، اس دوران پتہ چلا کہ پچھلے تین سالوں میں کم از کم پانچ ہزار افراد کو ساحل اور اس کے ساتھیوں کی کوششوں سے خون کے عطیات ملے تھے، بات چیت کے دوران کب ممبئی پہونچ گئے پتہ ہی نہیں چلا، ہم اسٹیشن سے باہر نکلے اور اپنی اپنی منزلوں کی جانب نکلنے لگے۔
میں فی امان اللہ کہہ کر پلٹا ہی تھا کہ اس نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی طرح خود غرض بن کر نہیں جئو ہوسکے تو روح کے ساتھ یہ جو لاش لے کر پھر رہے ہو ان دونوں کو استعمال کرکے لوگوں کے کام آنا سیکھو،
اس دن مجھے اسکے زندہ لاش کہنے کا مطلب پتہ چلا۔
میں بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے پر پہونچا ۔ اس کی باتوں پر مسلسل غور کئے جارہا تھا، کئی بار خیال آیا کہ فورا حامی بھرلوں لیکن جھجھک کے شدید احساس نے ایسا کرنے نہیں دیا۔
اگلی ملاقات کافی تفصیلی رہی خون کے عطیات کے بارے میں بہت سی ایسی جانکاری مجھے ملی جس کے بارے میں تصور بھی نہیں تھا۔
خون کا عطیہ ہر صحت مند انسان چھ ماہ پر دے سکتا ہے۔اس وقت خون دینے کے قابل کم از کم نوے فیصد افراد نے کبھی بھی خون نہیں دیا ہے۔ عام غلط فہمی ہے کہ اس سے کمزوری ہوتی ہے جبکہ ایک اچھی اور تندرست زندگی گزارنے کے لئے سال میں کم از کم ایک بار خون کا عطیہ بے حد ضروری ہے۔ 18 سال سے 65 سال کے شخص سے خون لیا جا سکتا ہے، کچھ یوروپی ممالک میں یہ عمر 17 سے 70 ہے۔ ہر چھ ماہ پر خون کا عطیہ دینے والے کا خون بار بار چیک ہوتے رہنے کی وجہ سے خود اس میں کوئی بیماری کا پتہ لگنے پر فورا اس کا علاج کراکے اس کی زندگی بچائی جاسکتی ہے، اس طرح سے خون کا عطیہ نہ صرف خون پانے والے کی زندگی بچاتا ہے بلکہ اس سے دینے والے کی بھی زندگی بچتی ہے۔ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ایک شخص کا عطیہ کیا ہوا خون کا ایک یونٹ تین لوگوں کی جان بچا سکتا ہے۔ ایشیا میں خون کا عطیہ کرنے والوں کی تعداد پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔بھارت میں خون کی مطلوبہ ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک ہزار افراد سے تقریبا 25 افراد کا ریگولر بلڈ ڈونر ہونا ضروری ہے۔ عالمی تنظیم صحت کے مطابق خون کا عطیہ دینے والے کو بہت سے نفسیاتی امراض اور ذہنی تناؤ سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

اس نے اخیر میں بتایا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ہر روز لاکھوں لوگوں کو خون کا عطیہ دے کر ان کو مرنے سے بچاتے ہیں،اس دن تہمارے ایک فون کرنے سے کسی کی زندگی بچ گئی، یہ سب سن کر میں کافی خوش ہوا، اس نے یہ خوشی بھانپ لی اور جاتے جاتے کہہ گیا کہ اگر چاہو تو یہی خوشی ہر روز محسوس کرسکتے ہو۔

اس گفتگو کو آج چار سال گذر چکے ہیں۔
آج بھی اس کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے ہیں، میرے افکار کو سنوارتے ہیں اور مجھے ہر دن بہتر سے بہترین انسان بناتے ہیں۔

 

ضیاءالرحمن محمد شفیع

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here