پچھلے ہفتے جاپان،آسٹریلیا،کناڈا،نیوزی لینڈ اور کئی یوروپی ممالک سمیت 22 ملکوں کے سفیروں نے اقوام متحدہ میں چین کی شکایت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ چین ایغور باشندوں اور دوسرے سبھی مسلمانوں کے قید خانوں کو فورا بند کردے۔
اس کے جواب میں آج چین کی حمایت میں سعودی عرب، قطر، کویت، عرب امارات اور پاکستان سمیت 37 ملکوں نے چین کی حمایت کی اور کہا کہ چین کے مغربی علاقے میں حالات بہت خراب تھے اور چین نے جو کوششیں کی ہیں ان کی وجہ سے حالات میں بہتری آئی ہے۔ خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس علاقے میں پچھلے تین سالوں سے کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے اور سبھی کو برابر کے حقوق لوٹا دئے گئے ہیں۔
چین کے حمایتیوں میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، بحرین، عرب امارات، کیوبا، بلارس، شمالی کوریا، برما، عمان، شام،روس اور کئی افریقی ممالک شامل ہیں۔
واضح رہے ہیں کہ چین کے مغربی علاقے صوبہ شنجیانگ میں تقریبا بیس لاکھ مسلمان جیلوں میں بند ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی اس معاملے میں چین کی حمایت کرچکے ہیں۔ فروری میں سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے چین میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حق حاصل ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here